34

این اے 120 کے الیکشن میں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا: عمران خان

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ شیر کو ووٹ ڈالنےوالے کان کھول کر میری بات سن لیں، اس شخص کو ووٹ ڈالیں گے جس کو سپریم کورٹ نے ایک سال مہلت دی۔
لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں کمزور طبقے کو پیغام دینے آیا ہوں کہ جب سے پاکستان بنا یہاں طاقتور ہمیشہ جیتے، یہاں کی عدالتوں سے کبھی کمزور عوام کو انصاف نہیں ملا، پاکستان میں طاقتور کبھی نہیں پکڑا گیا لیکن ایک طاقتور کا احتساب کرنے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا 17 ستمبر کو لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے انتخابات عام نہیں کیونکہ اس کے نتائج سے ہی پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس الیکشن میں پاکستان کا راستہ بدلے گا۔ آپ ووٹ دے کر سپریم کورٹ کے ججوں کا شکریہ ادا کریں۔ آپ کا ووٹ ججز صاحبان کو حوصلہ اور طاقت دے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شیر کو ووٹ ڈالنے والے کان کھول کر میری بات سن لیں، اس شخص کو ووٹ ڈالیں گے جس کو سپریم کورٹ نے ایک سال مہلت دی لیکن انہوں نے جو جواب دیئے وہ جھوٹ تھے۔ اب سوا سال بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے تو نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ ان کا کہنا تھا کہ چوری چھپانے کیلئے کرپٹ لوگوں کو بٹھایا جائے تو ملک ادارے تباہ ہوتے ہیں۔ جب ملک کا وزیر اعظم چوری کرتا ہے تو اداروں کو تباہ کر کے ڈاکا ڈالتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جیلوں میں چھوٹے چوروں نے وہ ظلم نہیں کیا جو بڑے ڈاکو نے کیا۔ تمام جیلوں میں بند چوروں کی چوری، نواز شریف کی ایک چوری کے برابر ہے۔ شیر کو ووٹ ڈالنا ہے تو چھوٹے چوروں کو نکالنے کا بھی کہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں