35

’پاکستان، افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحدی گشت کیلئے تیار‘

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ سرحد پر مشترکہ فوجی گشت کی خواہش کا اظہار کر دیا۔پاکستانی وزیر اعظم کا بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر نے پاکستان پر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’ہم پاک-افغان سرحد پر مشترکہ فوجی گشت اور مشترکہ فوجی پوسٹس بنانے کے لیے تیار ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سرحد پر اپنے علاقے میں باڑ لگائے گا، جبکہ افغان حکومت کی جانب سے ان کے علاقے میں باڑ لگانے کے عمل کو خوش آمدید کہے گا۔وزیر اعظم نے پاکستان میں دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جن دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے ان کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔امریکی کی جانب سے نئی افغان پالیسی میں پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اب تک مخصوص مطالبات موصول نہیں ہوئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات پر کارروائی کرے گا۔وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردوں کی مبینہ مدد کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے ایسے بیانات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہمارا خیال نہیں ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات افغانستان کی وجہ سے خراب ہوں گے، پاک-امریکا تعلقات 70 برس پرانے ہیں اور صرف ایک مسئلے کی وجہ سے انہیں دوبارہ تعمیر نہیں کیا جانا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں